حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بیروت علماء بورڈ نے اپنے ایک بیان میں کہا: اسرائیلی دشمن نے جنوبی لبنان میں بے گناہ شہریوں بالخصوص خواتین اور بچوں کے خلاف ہولناک قتل عام کیا تاکہ اپنے مجرمانہ ریکارڈ اور جارحانہ فطرت میں مزید اضافہ کرے۔ یہ وہی جارحانہ فطرت ہے جو زندگی سے وابستہ ہر چیز کو قتل، تباہ اور برباد کرنے سے باز نہیں آتی اور یہ سب لبنانی حکام کی آنکھوں اور کانوں کے سامنے ہو رہا ہے۔
اس بیان میں مزید کہا گیا: ہم بیروت علماء بورڈ میں اس بزدلانہ مجرمانہ اقدام کی مذمت کرتے ہیں اور لبنانی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جسے وہ ’’مذاکرات‘‘ کہتے ہیں اس سے باہر نکلیں اور اپنی عوام کے ساتھ کھڑے ہوں جو قتل عام ہو رہے ہیں اور جن کے شہر اور دیہات تباہ کیے جا رہے ہیں۔
اگر وہ واقعی، جیسا کہ دعویٰ کرتے ہیں، اپنے خودمختار فیصلوں کا اختیار رکھتے ہیں تو اس المیہ کے سامنے خاموشی اختیار کرنا چھوڑ دیں اور اپنی ناکامی اور سراب پر مبنی وعدوں کا اعتراف کریں!
کیا انہوں نے عوام کے لیے امن اور تباہ شدہ گھروں کو واپس لوٹنے کا موقع فراہم کیا؟ کیا روزانہ ہونے والا قتل عام رک گیا ہے؟ حالانکہ انہوں نے دشمن کے سامنے ہر ممکن اور ناممکن مطالبے کو مفت مراعات کی صورت میں پیش کر دیا ہے، یہاں تک کہ ان کا یہ طرزِ عمل متعدد عرب اور غیر ملکی اداروں کے لیے باعثِ تمسخر اور حیرت بن چکا ہے!
اس بیان میں مزید کہا گیا: ہم پیدا ہونے والے تباہ کن نتائج کی ذمہ داری لبنانی حکام پر عائد کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے دشمن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے انتخاب کو اپنے تک محدود رکھا، بیرونی احکامات کے سامنے بزدلانہ تسلیم و رضا اختیار کی اور ہمارے داخلی امور میں ہر قسم کی مداخلت کی اجازت دی۔ انہوں نے نہ سرزمین اور خودمختاری کا دفاع کیا بلکہ حتیٰ کہ مقاومت کو بھی جرم قرار دے دیا اور دفاعِ نفس کے حق سے بھی محروم کر دیا!!
بیان کے آخر میں کہا گیا: ہمارا یقین ہے کہ مقاومت ہی سرزمین کی آزادی، خودمختاری کے تحفظ اور قومی وقار کی پاسداری کا واحد راستہ ہے۔ ان بے بس حکام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری عوام کا خون، ہماری سرزمین، ہمارے شہر اور ہمارے دیہات انتہائی قیمتی اور عزیز ہیں۔ اہلِ مقاومت باوقار اور سربلند انسان ہیں جو ذلت و خواری کو قبول نہیں کرتے اور ہماری تاریخ اس دعوے کی گواہ ہے۔









آپ کا تبصرہ